|
|
| اصغر اعظم |
ونسٹن چرل نے کہا تھا سايست اور جنگ دونوں ايک جيسي خطرناک ہوتي ہيں، البتہ
جنگ ميں آپ صرف ايک بار مارے جاتے ہيں ليکن سياست ميں بار بار، اور اگر سياست
دان خان صاحب جيسا ہو تو ہر بار، اگر چہ ان کا دبدبہ دبا گياہے، مگر
پھر بھي ہر بات کہتے ہيں ميري نہ ماني گئي تو اينٹ سے اينٹ بجا دوں گا، اور بقول
شفيق الرحمن يہ کونسا مشکل کام ہے، اس کيلئے صرف دو انيٹيں ہي تو چاہئيے ہوتي ہيں،
فرماتے ہيں ہم ملک ديں گے، لوگ کہتے ہيں اصغر خان صاحب تاريخ کو دہراتے ہيں
مگہر اس سے سبق نہيں سيکھتے حالانکہ وہ اس مقام پر ہيں کہ تاريخ کو خود ان سے سبق
سيکھنا چاہئيے، ذولفقار علي بھٹو صاحب سے خان صاحب کو ايسے نام سے پکارتے جس سے
اتني محبت ظاہر نہيں ہوتي جتني سبزيوں سے ويسے تو محبت اور روزنامہ جنگ ميں سب
جائزہ ہوتا ہے۔
اصغرا خان صاحب وہ دوسروں کي خاميوں کي اس قدر لجمتعي سے اصلاح کرتے ہيں کہ
بعد ميں پتہ طلتا ہے کہ موصوف ساتھ خوبيوں کي بھي اصلاح کرتے ہيں، کہتے ہيں کہ ہر
مصيبت کا سامنا مسکرا کر کرتا ہوں، يہ بات انہوں نے بيگم مہناز رفيع کے سامنے
کہي، انہيں اپني پارٹي کے ہر کارکن کا نام نہيں آتا ہے، ليکن اس کي وجہ ان کا حافظہ
نہيں ہے، کراکنوں کي تعداد ہے خان صاحب ميں اس قدر اس استقللال کو يوں چلايا کوئي
ہيڈ ماسٹر کميٹی کا اسکول چلاتا ہے۔
ايک بار انہوں نے تقريري ميں اپني زندگي کي کہاني ان لفظوںميں سميٹي ميں وطن کا
سپاہي تھا، وطن کا سپاہي ہوں، اور وطن کا سپاہي ہي رہوں گا، تو پيچھے سے آوازص آئي،
ترقي نہ کرنا، اس کے باجود وہ جس اميداوار کو چاہيں اليکشن ميں جتوا سکتے ہيں،
انہيں بس اتنا ہي کرنا پڑتا ہے، اس اميدوار کے خلاف کھڑے ہونے پڑتا ہے، ويسے ايک
تجزيہ نگار کے خيال ميں وہ خود بھي اليکشن جيت سکتےہيں، بس انہيں اتنا کرنا ہے کہ
وہ اس حلقےسے اليکشن لڑيں جہاں سے اصغر خان اليکشں لڑ رہا ہوں۔ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |