|
|
| بابا جمہورا |
بابا جمہورا
کو ميں بزرگ سياست دان اس لئيے نہيں کہوں گا کہ وہ خود بزرگ ہوں تو
ہوں، مگر اس کي سياست ميں ابھي لڑکپن ہے، اس وقت سے سياست ميں ہيں جب
انہوں نے ابھي ہوش بھي نہيں سنبھالا تھا، اس کا مطلب يہ نہيں کہ وہ
سياست ميں نوادر ہيں، اتنے بڑے سياست دان ہيں کہ اکيلے پارٹي ميں پورے
نہيں آسکتے، سو دوسري پارٹيوں سے اشتراک کرکے رہنے کي جگہ بناتے ہيں،
کچھ لوگ انہيں اقليتوں کا رہنما مانتے ہيں، ويسے ان کي پارٹي ممبروں کي
تعداد ديکھ ليں تو آپ بھي مان جائيں گے۔
ہمارے ہاں آج کل اگر آپ اپنا شجرہنسب اور سارا خانداني کچا چھٹا معلوم
کرنا چاھتے ہيں، تو آپ کو کسي لائبريري ميں جانے کي ضرورت نہيں، سياست
ميں آجائيں، مخالفين خود ہي بتاديں گے کہ آپ کے داد پر داد کيا کيا
کرتے تھے، نواب زادہ صاحب نے سياست کو عبادت بناديا ہے، جس سے يہ پتہ
چلے نہ چلے کہ وہ سياست کو کيا سمجھتے ہيں، يہ پتہ چلتا کہ وہ عبادت کو
کيا سمجھتے ہيں، ان کي پوري زندگي ميں ان کي پيدائش کے علاوہ کوئي غير
سياسي واقعہ رونما نہيں ہوا، وہ تو صبح اٹھ کر سيب بھي يوں کھاتے
تھے جيسے اپني صحت کيلئے نہيں جمہوريت کيلئے کھا رہے ہوں،
ان کي تو چھينک تک غير سياسي نہيں ہوتي، تشدد کے اس قدر خلاف کے
اسکول ميں ضرب سے کئي کتراتے، تقسيم تو کبھي کي ہي نہيں ، البتہ جمع
ايسي کرتے کہ حساب کا ماسٹر حساب داد ديتا، ذہين اتنے کہ جس روز
ماسٹر شيو بڑھائے بغير استري کے کپڑے پہن کر کلاس روم ميں آتام انہيں
فورا پتہ چل جاتا، کہ آج ماسٹر صاحب اردو شاعري پڑھائيں گے، مزاج ايسا
جمہوري کہ ايچي سن کالج ميں کرکٹ کھيلتے وقت اردو شاعري کے دوران اسي
گيند کو پکڑنے بھاگتے، جس کي طرف سب سے زياد کھلاڑي بھاگتے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |