|
|
| غل خان |
پاکستان بننے سے پہلے وہ کانگريس کے رکن تھے، پاکستان بننے کے بعد سے کانگريس انکي
رکن ہے، گاندھي جي سے بہت متاثر ہيں، گاندھي جي کو غريب رہنے کيلئے بہت خرچ کرنا
پڑتا، ايسے ہي انہيں چپ رہنے کيلئے بہت بولنا پڑتا تھا، اپني پارٹي کو اپني ذات
سمجھتے ہيں اس لئے ان کي پارٹي پر فقرہ کسو تو سمجھتے ہيں کہ ذاتيات پر اتر آئے
ہيں، ان کي پارٹي ميں کوئي دوسرا آجائے تو اسے يوں ديکھتے ہيں جسے گھر ميں کوئي
دوسرا آگيا، وہاں تو شير باز مزاري بھي شير ہوتا ہے، نہ باز، بس مزاري ہوتا ہے، کسي
کو معاف نہيں کرتے، انہوں نے تو کبھي خود کو بھي معاف نہيں کيا، کبھي کبھي اپني
پارٹي کو سيرا کرانے لاہور لاتے ہيں مگر وہ ان کے واپس چار سدہ پہنچنے سے پہلے ہي
چار سدہ پہنچ چکي ہوتي ہے، ميں تا حکم ثاني محب وطن ہوں، اپني سياسي اہميت و اہليت
کي وجہ سے پاکستان ميں اہم مقام رکھتے ہيں اور يہ اہم مقام چار سدہ ہے، والد سے
سياست سے زيادہ باغباني کا شوق ورثے ميں ملا، وہ تو باغ باغ ہونا سے مراد دو
باغ ہونا ليتے ہيں، ولي باغ ميں رہتے ہيں، مگر يوں جيسے باغي باغ مي رہنے والے کو
ہي کہتے ہيں، وہ کسي مہمان کے سامنے چائے کے ساتھ بسکٹ رکھ ديں تو مہمان کو يقين
ہوجاتا ہے کہ يا تو بسکٹ اصلي نہيں يا يہ اصلي غل خان نہيں، وہ سانپ پر لاٹھي نہيں
مارتے، لاٹھي پر سانپ کو مارديتے ہيں، تقرير ميں ضرب الامثال يوں لگاتے ہيں کہ جيسے
امثال کو ضرب لگا رہے ہوں، کوئي بات سمجھ ميں نہ آنئے تو اس کيلئے نسيم الغات نہيں،
بيگم نسيم کو ديکھتے ہيں، انکي پارٹي کا نصف بہتر ان کي نصف بہتر ہے، گفتگو
ميں جي بہت زيادہ استعمال کرتے ہيں، اگر وہ فقرے کے آخر ميں جي لگائيں تو سمجھ ليں
گھر سے بارہ گفتگو کررہےہيں، گھر ميں وہ فقرے سے پہلے جي لگاتے ہيں۔
وہ بيگم نسيم والي خان کا مردانہ روپ ہيں، ليکن وہ بيگم صاحبہ سے بڑے سياست
دان ہيں، پندرہ سولہ سال بڑے ہيں، انگلينڈ جا کر جم کر لکھتے ہيں ، جس کي ايک وجہ
تو يہ ہے کہ وہاں اتني سردي پڑتي ہے، کہ بندہ نہ لکھےتو پھر بھي جم جاتا ہے، اپنے
بھائي عبدالغني خان کي طرح تخليقي آدمي ہے، وہ تو تاريخ بھي لکھ رہے ہوں تو لگتا ہے
تخليق کررہے ہيں، البتہ ان کي آپ بيتي کم اور اپنے آپ بيتي زيادہ لگتيہے، جيل ميں
تنہائي اور فرصت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے خدائي خدمت گار تحريک کے دو حصے
مکمل کرلئيے اور کہا جونہي پھر تنہائي اور فرصت ميسر آئي کتاب کا آخري حصہ
بھي مکمل کر لوں، اس اعلان کے بعد کسي حکومت نے انہيں جيل نہں بھيجا، ياد رہے خدائي
خدمت گار اتني مذہبي پارٹي رہي کہ اس کے سربراہ کا انتخاب براہراست خدا کے ہاتھ ميں
ہوتا، جس کو سربراہ کي کرسي سے اٹھاتا خدا ہي اٹھاتا۔
لائبريري اچھي جگہ ہے بس وہاں کتابيں
نہ ہوں، ويسے کتاب سے رشتہ تب شروع نہيں ہوتا جب آپ کتاب شروع کرتے ہيں، بلکہ تب سے
شروع ہوتا ہے کہ آپ کتاب ختم کيسے کرتے ہيں، غل خان کتابوں کے پرانے رشتے دار
ہيں، چپل اور چپل کباب پسند ہيں، بڑھاپے ميں اتنے جوان ہيں، پتہ نہيں جواني ميں
کتنے بوڑھے رہے ہوں گے، انہيں غصہ بہت آتا ہے، کبھي تو اس بار پر غصہ آجاتا ہے کہ
مجھے فلاں بات پر غصہ کيوں نہيں آيا، غصہ اتنا غصب ناک کہ وہ تو اپنے ہي غصے سے ڈر
کر کانپنے لگتے ہيں، بقول پير پگاڑہ ايک تو الي جو ہوتا ہے گرم ہے اور اوپر سے
پٹھان يعني بہت ہي گرم۔ قابل کو کابل کہتےہيں، بھٹو نے انہيں اس لئيے نا پسند کيا
کہ اس کي وجہ سے اندر جانا پڑا بلکہ اس وجہ سے کہ بيگم نسيم کو باہر آنا پڑا، تب سے
بيگم نيسم والي خان باہر ہيں اور خان صاحب اندر، کہتے ہيں بھتو دور ميں تقرير پر
پابندي تھي حالانکہ يہ درست نہيں، تقرير پر کپ پابندي تھي مقرر پر تھي، بھارت سے اس
کي زبان ميں بات کرتے ہيں، جب پاکستان سے پشتو ميں بات کرتے ہيں، ايک بار حکومت نے
انہيں بھارت ميں پاکستان کا سفير بنا کر بھيجنا چاہا تو بھارت کي حکومت نے کہا آپ
کسي پاکستاني کو بھيجيں۔
ارسطو نے کہا ہے، انسان ايک سياسي جانور ہے، پتہ نہيں يہ بات انہوں نے جانوروں سے
ملنے کے بعد کہي يا سياست دانوں سے ، تاہم غل خان ايسے سياست دان نہيں، ايک سياست
دان کو پتہ چلا کہ غل خان پان کھاتے ہيں نہ سگريٹ پيتے ہيں شراب سے دلپسچي ہے نہ
شباب سے تو اس نے کہا، آپ نے يہ کچھ کرنا ہي نہيں تو پھر سياست کيوں کرہے ہيں؟ ترقي
پسند نذريات کي وجہ سے چل رہے ہيں، قوم پرست ہيں، ہر وقت آوہ افغان کرتے رہتے ہيں،
وہ بيگم نسيم والي کے مزاجي خدا ہيں، ان کا مزاج اس پٹھان کي طرح ہے جو ہينگ لے کر
آيا اور چلا چلا کر کہتا اينگ لے لو، جو چپ کرکے گزرجاتا اسے کچھ نہ کہتا، اگر کوئي
کہہ ديتا کہ مجھے ہينگ نہيں چاہئے تو خان غصے ميں آکر کہتا و تم اينگ کيوں نہيں
ليتا، ام تمہارے باپ کا نوکر ہے جو تمہاري واسطے اتني دور سے اينگ لايا۔
غل خان لوگوں کي دکھتي رگ پر ہاتھ رکھيں نہ رکھيں، جس رگ پر ہاتھ رکھتے وہ ضرور
دکھتي، وہ ان سياست دانوں ميں سےہيں جس کے پاس ہر حل کيلئے ايک ہي مسئلہ ہوتا ہے،
وہ ہے انا، سرحد ميں پيدا ہي نہيں ہوئے، سياست کے لحاظ سے بھي ہميشح سرحد پر ہي
رہتے ہيں، پٹھانوں کا تو محبت کرنے کا اندازہ بھي اپنا ہوتا ہے، وہ تو کہتے ہيں کہ
خانان وہ ہم کو اتنا اچھا لگتا ہے کہ دل چاہتا ہے اسے گولي ماردوں، سردي گردمي ہر
موسم ميں گرم، ايک زمانہ تھا، وہ لطيفہ بھي سنارہے ہوتے تو لگتا دھمکي دے رہے ہيں،
مگر اب حال ہے کہ دھمکي بھي ديں تو لطفيہ سنارہے ہيں، ہم انہيں ضدي تو نہيں کہتے
مگر جسے ضدي کہنا ہو اسے غل خان کہتے ہيں۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صفحہ |
|
 |