|
|
| مصلحہ افواج کے سربراہ |
ايسے
ٹھنڈےکہ گرميوں ميں بھي ان کے پاس چادر لے کر بيٹھنا پڑتا ہے، وہ کام
بھي اچھے طريقے سے کرتے ہيں جو کام صرف طريقے سے کئي جاتے ہيں، پہلے رس
گلے چيني ميں ڈبو کر کھاتے، اب چيني بھي دھو کر کھاتے ہيں، وہ غلط وقت
پر صيح بات کرتے ہيں ليکن صيح وقت پر غلط بات کرتے ہيں، البتہ وہ کسي
کو اسلامي ذہن کا بندہ کہيں تو اس سے مراد جماعت اسلامي ذہن کا بندہ
ہوگا۔
مولانا مودودي جماعت کو سياست ميں لائے، قاضي حسين احمد سياست کو جماعت
ميں لائے، سياست ميں ان کي سوچ الگ ہے، سوچ الگ نہ ہو تو خود الگ
ہوجاتے ہيں، قاضي صاحب وہ وکيل ہيں جو خود عدالت ميں کيس لڑتے
ہيں جيسے عدالت پر مقدمہ چلا رہے ہوں، شروع ہي سے اس قدر تيز
تھے، کہ اسکول ميں ان کي جو تاريخ پيدائش درج ہے، اس سے دو سال
قبل پيدا بھي ہوچکے تھے، ان کے بزرگ کام کے قاضي تھے، زيارت کاکا گائوں
مین ان کا خاندان گائوں کا استاد تھا، ان کے سامنے سب کاکے تھے، ان کے
گھر کے ارد گرد دوسروں کے گھريوں ہي تھے، ديہاتي اسکول کے بچے استاد کے
اردگرد بيٹھے ہوتے ہيں، تعلق اس خاندان سے جہاں نوجوانوں کے چہرے پر
داڑھي نہ ہونا بے پردگي ميں شمار ہوتا ہے 1970 ميں جماعت کے نظم ميں
ضبط ہوئے، وہ اسلامي جمعيت طلبہ سے جماعت ميں نہ آئے بلکہ اسلامي جمعيت
طلبہ ان سے جماعت ميں آئي۔
بچپن ہي سے جغرافئيے سے اس قدر لگائو تھا کہ کوئي پوچھتا بتائو
فلاں ملک کہاں ہے؟ تو جھٹ بتا ديتے، جغرافئيے کي کتاب کے فلاں صفحے پر
بچپن ميں دنيا کا نقشہ يوں ديکھتے جيسے اپنا ناک نقشہ ديکھ رہے ہوں،
پھر جغرافئيے کے استاد ہوئے اور جغرافئيے کے استاد کيلئے خگرافئيے سے
اہم کوئي مضمون نہيں ہوتا ہے کيونکہ خغرافئيے کے نہ ہونے سے ہميں تو
کوئي فرق نہيں پڑتا مگر وہ استاد نہيں رہ سکتا، تو جواني ميں
مشتاق احمد يوسفي صاحب کو بھي جغرافئيے کا اتنا شوق تھا، کہ ايک صاحب
انہيں ادکارہ مسرت نزير کي ہسٹري بتارہے تھے تو يوسفي صاحب نے کہا قبلہ
ہسٹري کو چھوڑديں، مجھے ان کا جغرافيہ بتائيں، خواتين کے معاملے ميں
قاضي صاحب کا رويہ اتنا سخت نہيں جتنا مونا عبدالستار نيازي صاحب کا ہے
انہوں نے تو عورت سے شادي تک نہيں کي، بہر حال قاضي صاحب سے مس
گائيڈ ڈميزائل کا پوچھيں تو کہيں گے وہ ميزائل جسے کسي مس نے گائيڈ کيا
ہو، قاضي صاحب کا نشانہ اچھا ہے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |