|
|
| ملا نصير الدين |
ان سے حور
کامذ کر پوچھو تو شايد حرکہيں، جي ايم سيد کے بقول صاحب
جھوٹ نہيں بولتے، گويا وہ پير صاحب کو سياست دان نہيں مانتے،
ويسے ہر پير صاحب کے اليکشن کے نتائج سے ہميشہ يہ لگتا ہے کہ ٹران کا
انتخاب نہيں کرتے، يہ ووٹروں کا انتخاب کرتے ہيں، يہ وہ پير ہيں جو
دن ميں اتني بار ماشااللہ نہيں کہتے جتني بار مارشل لاء کہتے ہيں، برتھ
ڈے ضرور مناتے ہيں، دوسرے سياست دان شايد اس لئيے نہيں مناتے کہ برتھ
ڈےتو ڈےکو پيدا ہونے والے ہي مناسکتے ہيں۔
ان کي باتوں ميں اتنا وزن ہوتا ہے کہ سننے والا اپنا سر بھاري محسوس
کرنے لگتا ہے ان کا ہر فقرہ کئي کئي کلوکا ہوتا ہے، فقرے تو
دوسرے سياست دانوں کے بھي کئي کئي کلو کے ہوتے ہيں، جي ہاں کئ
کئي کلو ميٹر کے، دسروں کے تو بيانوں کي بھي اتنے کام سرخي نہيں
لگتي جتنے کالمي سرخی ان کي خاموشي کي ہوتي ہے، ستاروں کے علم پر ايسا
عبور ہے کہ فلمي ستاروں کي گردش تک پس و پيش کرتے رہتے ہيں۔
بہت اچھے کرکٹر ہيں، بحثيت امپائر کئي بار سنچرياں بنائيں،
فوٹو گرافي کا شوق ہے کہتے ہيں ميں ہميشہ خوبصورت تصوريں بناتا ہوں،
حالانکہ وہ خوبصورت کي تصويريں بناتے ہيں، مخالفين تک پير صاحب
اس قدر احترام کرتے ہيں، کہ ان کے سياسي حريف پرويز علي شاہ يہ نہيں
کہتے ميں نہ متعد بار پير صاحب کو ہرايا، يہي کہتے ہيں،
پير صاحب نے مجھے ہر بار جتوايا، صحافي بھي ان کے ان سے سوال
کررہے ہوں تو انہيں يوں ديکھتے ہيں جيسے پير سوالي کو۔
پير صاحب کو فرشتے پہت پسند تھے، فرشتوں ميں يہي خوبي ہے کہ وہ
سوچتے سمجھتے نہيں، بس جو کہ جائے، کرتے ہيں، پير صاحب کو زميني فرشتے
اليکشن ہرواتے ہيں، زمين اور آسماني فرشتوں ميں وہي فرق ہے جو
زميني اور آسماني بجلي ميں ہے، آسماني بجلي وہ ہوتي ہے جس کا بل
نہيں آتا، پير صاحب اس وقت کے تعليم يافتہ ہيں جب ايک ميڑک پڑھا
لکھا آج کے دس ميڑکو کے برابر ہوتا ہے، يہي نہيں اس زمانے کا تو
ايک ان پڑھ آج کے دس ان پڑھوں سے زيادہ ان پڑھ ھوتا تھا۔
پير صاحب کسي سياست دان کو سنجيدگي سے نہيں ليتے، جس ک سنجيدگي
سے ليں وہ مذاق بن جاتا ہے، وہ اتنے شگفتہ مزاج ہيں کہ ان کے کمرے کے
گلدان ميں پلاسٹک کے پوودوں پر بھي پھول کھلنے لگتے ہيں، جب ان
کے مريد اور کالعدم وزيراعظم ممد خان جونيجو ايسے تھے کہ ان کے کمرے
ميں تو پلاسٹک کے پھول بھي مر جھا جاتے پير صاحب کي چھٹي حس جانے والے
حکمرانوں کا باتاتي ہے، جب کے باقي پانچ حسيں آنے والے کا، وہ کہتے ہيں
حکمرانوں کاآئين کي نہيں، آئينے کي ضرورت ہے، ٹھيک کہتے
ہيں، خظاب اور زيڈال بندہ آئين کي مدد سےتو نہيں لگاسکتا،
ان کي طبعيت ميں اتني مستقل مزاجي نہيں جتني مستقل مزاجي ہے،
سنجيدہ بات کو غير سنجيدہ طريقے سے کہنا مزاح نہيں بلکہ غير
سنجيدہ بات کو سنجيدہ طريقے سے کہنا مزاح ہے، سوچتا ہوں اگر سياست
ميں سجيدگي آگئي تو پير صاحب کيا کريں گے؟ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |