|
|
| پيکاسو کي بيوہ |
جہاں بلند بولنا ہو، وہاں سرگوشی کرتے ہيں، جہاں سرگوشي کرنا ہوں وہاں خاموشي کريں
گے، انہيں تو ايک آدمي سے بات کرنے کيلئے بھي مائيک کي ضرورت ہے، اس قدر آہستہ
بولتے ہيں، کہ زور لگا کر سننا پڑتا ہے، ان کا چہرہ ايک بار ديکھ لو تو
ايک بار ہي ياد رہتا ہے بار بار ديکھو تو بار بار بھولے گا، انہيں ہر مشکل
پسند آتي ہے، وہ تو مشکل کو مہ شکل سمجھتے ہيں۔
انہيوں نے اپني آواز کبھي بيوي کے قد سے بلند نہيں کي، ان کي پسنديدھ شخصيت ان کي
بيوي کا شوہر ہے، ہر بيوي کے جذبات کا اس قدر خيال رکھتے ہيں کہ اگر انہيں پتہ ہو
کہ مجھے آج مرنا ہے، تو وہ سب سے پہلے جو کام کريں گے، وہ يہ ہوگا سب سے پہلے اپني
بيوي کو تعزيتي کارڈ ارسال کريں گے، اسکول ميں ان کي نرم طبعيت، قوت برداشت اور صبر
کي وجہ سے ايک بار اسکول ٹيچر نے کہا تھا، يہ مستقبل کا مستقل شوہر ہے، آج کل دينا
کي سپر پاور امريکہ ہے، رامے صاحب کي دنيا کي سپر پاور بھي آج کل ايک امريکن ہي ہے۔
کہتے ہيں کہ اقتدار کا بھولا شام کو پارٹي ميں آجائے تو بھولا نہيں کہلاتا،
البتہ اگر وہ رات کو پارٹی میں آئےتو بات کچھ اور ہے، انہيں ڈاکٹر کہے کہ آپ کي صحت
کيلئے تبديلي ضوري ہے، تو صبح پارٹی بدل ليں گے، کہتے ہيں کہ ميں نے زندگي ميں جو
چيز سب سے زيادہ ديکھي ہے، وہ سورج ہے، واقعي چڑھتے ہوئے سورج کو ان سے زيادہ کس نے
ديکھا ہوگا، استاد تھے تو طبعيت ميں شاگردي تھي، طبعيت ميں استادي آئي تو سياست ميں
آگئے، انہيں ہر وقت ايک بندہ چاہئے جس کي تعريفيں کرسکيں، اگر کوئي نہ ملےتو شادي
کا سوچنے لگتے ہيں، کافي اس قدر پسند ہے کہ وہ چيز ليتے ہيں جو کافي ہو، ہم تو کہتے
ہيں کہ مشروبات ہيں ہي دو طرح کے ايک کافي اور دوسرے نہ کافي۔
صاحب جس نے کبھي عورت سے محبت نہيں کي، وہ قابل اعتبار نہيں ہسکتا اور جس نے عورت
ہي سے محبت کي، وہ بھي قابل اعتبار نہ رہا، ادب نے ان کا قدر بحثيت سياستدان
کم کيا اور سياست نے ان کا قد بحثيت اديب کم کيا، کہتے ہيں ميري تحريروں ميں علم و
فضل کي کمي نظر آئے تو اديب سمجھ کر معاف کرديں۔
محمد حنيف رامے وہ تصوير ہيں جو انہوں نے خود بنائي ہے، کبھي انہوں نے اسے ايک
سياستدان وزيراعلي کي شکل دي، کبھي ترقي پسند صہافي کي، کبھي پنجاب کا مقدمہ لڑنے
والے اديبب کي، کبھي مقرر اور کبھي دانشور کا روپ ديا اور کبھي ان سب پر خط تنسيخ
پھر کر ہاتھ ميں برش پکڑ کر خود تصوير کي جگہ آکھڑے ہوئے، يہ وہي بابا ڈانگ ہے جو
خود تو وہي کا وہي رہا مگر اس کي ڈانگ گھستے گھستے قلم اور برش ہوگئي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صفحہ |
|
 |