|
|
| شي مين |
عورت کے تخليقي کاموں کے اتنے خلاف ہيں کہ جو تخليقي کام قدرت نے عوت کے ذمے لگايا
ہے اسے روکنے کيلئے منصوبہ بندي کرتي رہتي ہي، يوں پاکستان ميں عورتيں ضبط توليد کي
گولياں کھاتيں ، وہ ترقي پسند خواتين کہلاتيں اور جو نہ کھاتيں وہ مائيں کہلواتيں،
جتوئي صاحب کےدور ميں وزير اطلاعات رہيں، ويسے اطلاعات کا شعبہ پيدائشي طور پر
خواتين ہي کا ہے، آج کل امريکہ ميں پاکستاني کلچر کي نمائندہ ہيں، پہلے پاکستان ميں
امريکي کلچر کي نمائندہ تھيں۔
وہ ڈپلوميٹ ہيں، ايک سياست دان نے کسي کو بتايا کہ ميں ڈپلوميٹ ہو تو دوسرا بولا
اچھا ميں تو تمہيں غير شادي شدہ سمجھ رہا تھا ليکن اس کے باوجود امريکہ ميں کسي کو
اپنے گھر دعوت نہيں ديں، کہتي ہيں يہاں کون سي ميري بيوي ہے جو مہمانوں کو پکا کر
کہلائے گي۔
امرکي گفتگو اور لباس ميں اختصار سے کام ليتے ہيں، يہ اختصار ميں بھي تفصيل سے کام
ليتي ہيں، انہيں تو بندہ کہہ دے کہ مجھے مونچھيں پسند ہيں تو کہيں گي کہ مرد کي يا
عورت کي ، جب حکومت ان کي نہيں ہوتي يہ حکومت کي ہوتي ہيں، سياست ميں آنے سے پہلے
تصويريں بناتيں، سياست دان اور مصور ميں يہ فرق ہے کہ مصور کي صرف تصوروں کو
ہي لٹکايا جاتا ہے، ان عورتوں سے زيادہ تيز ہيں جو ان سےکم تيز ہيں، غصے ميں
منہ کھلا رکھتي ہيں، اور آنکھيں بند، وہي باتيں چھپاتيں ہيں جو وہ نہيں جانتيں،
ايسي بار عب شخصيت ہيں کہ کچھ نہ کہہ رہي ہوں تب بھي لگتا ہے کہ کچھ کہہ رہي ہيں،
مسز تھيچر سے خاوند کو ان سے ملنے سے پہلے محترمہ کے پي اے سے ٹائم لينا پڑتا تھا،
ايک بار کسي نے تھيچر کے خاوند سےپوچھا مارگريٹ تھيچر آپ کي بيوي ہيں؟ تو اس نے کہا
آپ کو اس شبے پر کوئي شک ہے۔
جھنگ کے لوگ انہيں اپنا ہيرو کہتے ہيں، سنا ہے کچھ عزيز انہيں چاند بھي کہتے ہيں جس
کي وجہ شايد يہ ہو کہ چاند مذکر ہوتا ہے، بہر حال جبتک وہ سفين بن کر اميرکہ نہيں
گئي تھيں لوگوں کوشک تھا کہ پاکستاني سياسر ميں بے نظير واحد خاتون ہيں اب شک نہيں
رہا۔ |
|
اگلا صفحہ |
(4) |
پچھلا صفحہ |
|
 |