ہم اور غرض مطلب ان سے وعد کے گھر ميں
ديکھيں تو بال کتنے رہتے ہيں آج سر ميںدل جس پہ مبتلا ہے بس وہي دل آرا
مانا ہيں داغ رخ پرمانا ہے گنج سر ميں
کہتے نہ تھے کہ ديکھو دشمن سے دور رہنا
اب کيا بتائيں تم کو کيوں درد ہے کمر ميں
ڈر ہے جناب احمق جوتے نہ کھائيں اک دن
چھپ چھپ کے روز قبلہ جاتے ہيں ان کے گھر ميں
|