ہم ميکشوں کا کام ابھي زير غور ہے
جوتا چلے کہ جام ابھي زير غور ہےبلقيس کے خصم کو ترقي بھي مل گئي
ميرے مياں کا نام ابھي زير غور ہے
چھ ماہ سے ميرے مريض کي حالت تباہ ہے
نزلہ ہے يا زکام ابھي زير غور ہےميں نے کہا کہ داد سخن ديجئے حضور
بولے تيرا کلام ابھي زير غور ہے
پي اے بنا ليا ہے پيا سے غريب کو
اس سے بھي نيچ کام ابھي زير غور ہےہر محفل سخن ميں ميں جاتا ضرور ہوں
ليکن ميرا مقام ابھي زير غور ہے
کہنے لگے عنايت عجلت پسند سے
بھيا تمہارا کام ابھي زير غور ہے |