ہر ايک شہر تماشا دکھائي ديتا ہے
تمام ملک سنيما دکھائي ديتا ہےاب آئے بھي تو کہاں سے صدائے ککڑوں کوں
نہ مرغياں ہيں نہ مرغا دکھائي ديتا ہے
جو پوچھا غير نے ہلکہ مرا تو فرمايا
ہے پوسٹ کارڈ لفافہ دکھائي ديتا ہے وہ خود کو رشک مسيحا سمجھ رہا ہے يہاں
جو شکل سے خر عيسي دکھائي ديتا ہے
اسي حسيں نے اڑايا ہے ميرا دل بيدل
وہي حسيں جو پٹاخا دکھائي ديتا ہے
|