تھا وہ چپراسي مگر ديکھا تو افسر سا لگا
رشوتوں کا مال اس کو شير مادر سا لگااس کا بھدا سا بدن ميک اپ ميں مرمر سا لگا
غازہ اس کثرت سے تھوپا تھا کہ پلستر سا لگا
قيس کس ارمان سے آيا تھا دولہا بن کے آج
ماڈرن ليلي کو ليکن ايک جوکر سا لگاکل نئي بيگم جو شاپنگ کے لئے گھر سے چليں
شوہر بيچارہ ان کے ساتھ شوفر سا لگا
کيسي حيرتناک ہيں واعظ کي نو سر بازياں
مولوي کو مولوي مسٹر کو مسٹر سا لگاجب کہا بيگم نے بيدل پائوں ميرے وابنا
دل کچھ اتنا خوش ہوا يہ حکم آنر سا لگا
|