کيا وہ ہر جائي مجھے ڈھونڈے ملے گا جو کبھي
ايک سو دس ميں گرفتار نہ ہونے پايابارہا بيٹھ گئے ہار کے چونگي والے
راستہ عشق کا ہموار نہ ہونے پايا
کوئي انسان ہے بے مہر کہ طاعون ہے تو
کبھي جانبر ترا بيمار نہ ہونے پايا
جو نہ شوقين ہو ايسا نہيں دلبر کوئي
پالتا ہے کوئي بلبل تو کبوتر کوئي
بيسييوں چاہنے والوں کي ضرورت کيا ہے
ناز اٹھوائوں گے تم ان سے کہ چھير کوئي
اک آہ آتيش ميں ڈبل کام ہوگيا
انکو بخار غير کو سرسام ہوگيا
وہ سير باجرے کا مليدہ اڑا گئے
لالہ کا پيٹ کيا ہوا گودام ہوگيا
|