|
يا رب ميرےنصيب ميں اکل حلا ہو
کھانے کو قورمہ ہو کھلانے کو دال ہو
لے کر بارات کون سپر ہائے وے پہ جائے
ايسي بھي کيا خوشي کہ سڑک پر وصال ہو
جلدي ميں منہ سے لفظ جمالو نکل گيا
کہنا يہ چاہتا تھا کہ تم مہ جمال ہو
عورت کو چائيے کہ عدالت کا رخ کرے
جب آدمي کو صرف خدا کا خيال ہو
اک بار ہم بھي رہنما بن کے ديکھ ليں
پھر اس کے بعد قوم کا جو کچھ بھي حال ہو
ہم تو کسي سے بھيک نہيں مانگتے فگار
ليکن اگر فقير کي صورت موال ہو |