جہاں
ميں آج ديبي دنگھ تو راجوں کا راجہ ہے
خدا کا فضل ہے جو قلعہ ميں تو آج راجہ ہےسليماں نے ہے تيرے ہاتھ ميں دي رزق کي کنجي
تو سرداروں کا سردار اور مہاراوں کا راجہ ہے
شکم
اہل جہاں کے سب ہيں شکرانے بجالاتے
دامامہ جا کے تيرا گنبد گردوں پہ باجا ہےکسي
کو دے نے دے تنخواہ تو مختار ہے اس کا
مگر ہد ہد کو دے دے کيوں يہي ہد ہدکا کھا جا ہے |