کون
يہ لے کہ ہاتھ ميں سبز کمان آ گيا
ابرؤے سبزہ رنگ کا پھر مجھے دھيان آگياسبزہ
رنگوں کے فريبوں ميں دل آيا بے طرح
عشق نے پھر سبز باگ اس کو دکھايا بے طرح
جبکہ
طفلي ميں اماموں کا بنايا تھا فقير
تھا اسي دن سے دعا گو سبزہ رنگوں کا فقيرکائي
مل دو تم مجھے آگے خدا شافي ہے بس
دل جلوں کو سبزہ رنگوں کے يہي کافي ہے بس
تري
سبزہ رنگ ايسي سورت ہے صاف
زمرد کي گويا کہ صورت ہے صافآج يہاں کل وہاں گزرے يوں ہي جگ ہميں
کہوے ہے سبزہ رنگ اس سے ہري چگ ہميں
قتل کي کچھ مرے سبزہ رنگ کي تدبير آج
دل مرا چاہے ہے سير سبزہ شمشير آجدلامت دوڑ تو ان سبزہ رنگوں کي صفائي پر
پھسل جاتا ہے اکثر آدمي کا پاؤں کائي پر
دھيان ميں يوں ہوں سبزہ رنگوں کي غرق
جوں نشے ميں ہو کوئي بہنگ کے غرقکيوں
غش نہ سبزہ رنگ پہ دل سے مدام ہوں
ميں حضرت امام حسن کا غلام ہوں |