مشرق
ميں اصولوں دين بن جاتے ہيں
مغرب ميں مگر مشين بن جاتے ہيں
رہتا نہيں ايک بھي ہمارے پلے
واں ايک کے تين بن جاتے ہيںشيخ
صاحب بھي تو پردے کے کوئي حامي نہيں
مفت ميں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہوگئے
وعظ ميں فرما ديا کل آپ نے صاف صاف
پردہ آخر کس سے ہو جب مرد ہي زن ہوگئے
سنا
ہے ميں نے کل يہ گفتگو تھي کارخانے ميں
پرانے جھونپڑوں ميں ہو ٹھکانا دستاکا ريوں کا
مگر سرکار نے کيا خوب کونسل ہال بنوايا
کوئي اس شہر ميں تکيہ نہ تھاانتہا بھي اس کي ہے آخر خريديں کب تلک
چھترياں، رومال، مفلر پيرہن جاپان سے
اپني غفلت کي يہي حالت اگر قائم رہي
آئيں گے غسال کا بل سے کفن جاپان سے
يہ
کوئي دن کي بات ہے اے مرد ہوشمند
غيرت نہ تجھ ميں ہوگي نہ زن اوٹ چاہے گي
آتا ہے اب وہ دور کہ اولاد کے عوض
کونسل کي ممبري کے لئے ووٹ چاہے گيممبري امپيريل کونسل کي کچھ مشکل نہيں
ووت تو مل جائيں گے، پيسے بھي دلوائيں گے کيا؟
ميراز غالب خدا بخشے بجا فرما گئے
ہم نے يہ مانا کہ دلي ميں رہيں، کھائيں گے کيا؟
رات
مچھر نے کہہ ديا مجھ سے
ماجرا اپني ناتمامي کا
مجھ کو ديتے ہيں ايک بوند لہو
صلہ شب بھر کي تشنہ کامي کا
اور يہ بسوہ دار بے زحمت
پي گيا سب لہو اسامي کااٹھا
کر پھينک دو باہر گلي ميں
نئي تہذيب کے انڈے ہيں گندے
اليکشن، ممبري، کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادي کے پھندے
مياں نجار بھي چھيلے گئے ساتھ
نہايت تيز ہيں يورپ کے رندے
ايک شعرڑکي
وہ جو لڑکيوں ميں کھيلے
نہ کہ لڑکوں ميں جا کے ڈنٹر پيلے |