ميريار علي نام۔ ميرا
من لکھنؤي کے فرزند اور نواب عاشور علي خان لکھنوي کے شاگرد تھے۔نہايت ہنس
مکھ، ملنسار اور خليق انسان تھے۔ جب تک لکھنؤ ميں رہے پريشان حال رہے۔١٩٤٧
ميں مجبور ترک وطن کرکے دلي چلے گئے مگر وہاں پاؤں نہ جم سکے۔بھوپال پہنچے
وہاں بھي بد نصيبي ساتھ رہي٦٣ برس کي عمر ميں وفات پائي۔
جان صاصب نے شروع ہي سے ريخي گوئي کي مشق کي اور اس کے سوا کسي مصنف ميں
کوئي شعر نہيں کہا۔ وہ مشاعروں ميں بھي بالکل زنانہ لباس پہن کر جاتے اور
اس انداز سے پڑھتے کہ سننے والے ہنستے ہنستے لوٹ ہوجاتے۔ |