|
خالي
کے مہينے ميں وہ خالا نہيں رہتا
درگو مرے پاس زرلا نہيں رہتا کھلي
ہے جبھي ٹھوکريں کھانے کي حقيقت
سر پر کوئي چاہنے والا نہيں رہتا
آرزو
بندي کي خالق سے اک دن ميري سوت
کھائے پھل تلوار کا ور پھول سونگھے ڈھال کا
برفي خانم بھونک کر خالي نہ کر اپنا دماغ
بے ادب لڑکا تھا کتا بن گيا سسرال کا
کوٹھے پہ چڑہ کہ رنڈي کرتي ہے جو کنگھي
ميں پيچ خوب سمجھي يہ بھي ہے جال تيرا
کوئي تو آ پھنسے گا الو مؤا نگوڑا
ہے جعل ساز بحري ہر بال بال تيرا
کھان
چرا کے خوب نہيں ماں سے پان کا
منہ کي کہيں کھلائے نہ چسکا زبان کا
بيڑا تو بي اٹھاؤ خدا سرخرو کرے
سبز ہوں پتہ جو لگے خاصدان کا
گئي
تھي ديکھنے باجي ميں سورج کنڈ کا ميلہ
بچي ہوں پستي پستي مردوؤں کا يہ ہوا ريلا
مجھے کبسي سمجھ کر گھورتا ہے ديکھو ميلے ميں
ميہنوں لڑکا باجي ميري گودي ميں جو ہے کھيلا |