|
چھين لي تم نے نسائيت سے ہر شيريں ادا
مرحبا اے نازک اندامان کالج مرحبا
ابکھڑيوں ميں عشوہ ترکانہ در کھولے ہوئے
سينٹ کي خوشبو ميں روح نز پر تولے ہوئے
خال و خد سے جذبہائے صنف نازک آشکار
کرزني چہروں ميں زن بننے کے ارماں بے قرار
الاماں يہ زينتيں موزے ہيں گو اترے ہوئے
ذوق ہےگھنگرو کاگيٹس پائوں ميں پہنے ہوئے
ريشمي رومال سے ہے فرق نازک پہ بہار
اوڑھني پر ديدني ہے راہ کا گردغبار
پائوں رکھتے ہو دم گلگشت کس کس ناز سے
اے ميں قربان رن ميں نکلو گے اسي انداز سے
شغل زينت سے تمہیں فرصت مگر ملتي نہيں
کيا تمہارے پائوں کے نيچے زميں ہلتي نہيں
|