خدائے سخن
مير تقي مير ١٧٢٢ ميں آگرہ ميں پيدا ہوئے، بچپن ہي ميں يتيم ہوگئے اور اپنے
خالو سراج الدين خان آرزو کے پاس دہلي چلے آئے، انہي کے زير سائے
پرورش اور تعليم تربيت حاصل کي جواني ميں نواب آصف الدولہ کے بلانے پر
لکھنو چلے گئے اور نوے برس کي عمر پاکر ١٨٠٨ ميں وفات پائي۔
ميرتقي مير نہايت نازک مزاج، خوددار، خود پسند، بے حد قانع اور متوکل شخص
تھے، ہر صنف شعر پر قادر تھے۔ تمام اساتذہ فن نے ان کو استاد تعليم تسليم
کيا ہے۔چھ ديوان غزلوں کے، دو داسوخت، کئي مخمس اور مثنوياں مثلاَ، عشق،
دريائے عشق، جوش عشق، معاملات عشق، خواب و خيال، شکارنامہ، اثردرنامہ اور
تذکرہ نکات لعشر ان کي ياد گار ہيں۔ |