ہوگا کسي ديوار کے سائے ميں پڑا مير
کيا کام محبت سے اس آرام طلب کو
رات
تو ساري گئي سنتے پريشاں گوئي
مير جي کوئي گھڑي تم بھي تو آرام کرو
لگا
نہ دل کو کہيں کيا سنا نہيں تو نے
جو کچھ کہ مير کا اس عاشقي نے حال کيا
شيخ
جو ہے مسجد ميں ننگا رات کو تھا ميخانے ميں
جبہ خرقہ کرتا، ٹوپي مستي ميں انعام کيا
جو
اس شور سے مير روتا رہے گا
تو ہمسايہ کا ہے کو سوتا رہے گا
|