دلي
سے ہم جو لکھنؤ آئے
گرم پرخاش مرغ ياں پائے
آدمي
جو بڑے کہاتے ہيں
مرغ مارے بغل ميں آتے ہيں
جمع
منگل کو پالي کي ہے دھوم
گليوں ميں روز حشر کا ہے ہجوم
مرغ
بازوں کو ہے قيامت جوش
جس کو ديکھو تو مرغ در آغوش
مرغ
لڑتے ہيں ايک دو لاتيں
سيکنڑوں ان سفہيوں کي باتيں
ان
نے پر جھاڑے يہ پھڑکنے لگے
ان کي نوک يہ کڑ کنے لگے
وہ
جو سيدھا ہوا تو يہ ہيں کج
ساتھ اس کے بدلتے ہيں سج دھج
مرغ
کي ايک رفشاني ہے
ان کي صد رنگ بدزباني ہے
ايک
بولے کہ کاري آئي چوٹ
ايک کہتا ہے بس گيا اب ٹوٹ
جھکتے ہيں آپ کو تراتے ہيں
لاتيں گويا کہ يہ ہي کھاتے ہيں
ايک
کے منہ ميں مرغ کي منقار
ايک کے لب پر نا سزا گفتار
منہ
پہ آيا جو کچھ وہ بکنے لگے
تھيکي نظروں سے سب کو تکنے لگے
طرفہ
ہنگامہ طرفہ صحبت ہے
بعد نصف النہار رخست ہے
کھانچے سر پر بغل ميں مارے مرغ
لے گئے جيتے ہارے سارے مرغ
|