|
اے خضر عجب رنگ پہ نيرنگ جہاں ہے
آنکھوں تلے ہر وقت قيامت کا سماں ہے
از بسکہ گراني کا يہاں سکہ رواں ہے
سر اپنا بھي اب دوش پہ اک بار گراں ہے
جينے کے تصور سےبھي ہوتي ہے گراني
تف عشق پہ اور جائے جہنم ميں جواني
مزدور جو ہيں ان کيلئے کام ملے ہيں
اور مال تجارت کے بہت دام ملے ہيں
صنعت کو بھي کچھ اوج کے ايام ملےہيں
دولت کے تو ديدار ہميں عام ملے ہيں
پردے ميں فراغت کے مگر قحط نہاں ہے
يا دھوپ کے ہوتے ہوئے بارش کا سماں ہے
اب آئےکہاں اطلس و کم خواب کي چادر
اک چادر عصمت ہے يا ہے آب کي چادر
جيتے ہوں تو ملبوس ہوں عرياني تن سے
مر جائيں تو آزاد رہيں فکر کفن سے
چيني گئي ايسي کہ وہ باہر ہے نہ گھر ميں
افسوس کہ اب ہجر ہوا شيرو شکر ميں
اس لب پہ شکر خند نہيں آج نظر ميں
شيريني بھي باقي نہيں اشعار خضر ميں
کہتا ہے کہ يہ فن سخن کھيل نہيں ہے
تر کيسے زباں ہو کہ يہاں تيل نہيں ہے |