|
عجب بلا ميں پھنسي ہوں گوئياں ميں اس نگوڑے سے دل لگا کر
يہ دونوں پھوٹيں جو رات سوئي ہوں ميں پلک سے پلک لگا کر
کھلے ہيں ايام حيدري کے پڑي ہے گھر ميں وہ شیخ جي کے
جلائيں گے ہم چراغ گھي کے ضرور مسجد ميں آج جا کر
بلا کي شوخي زبان ميں ہے ستم کا جادو بيان ميں ہے
وہ موہني آن بان ميں ہے کہ مار ڈالا لبھا لبھا کر
لگائے کيا کيا وزير اعظم نگاہ خوني کے تير بيگم
بنايا دل کو اسير بيگم کمان ابرو چڑھا چڑھا کر
بگاڑتي کيوں ہے اپناجوبن ہے چند روزہ ہوائے گلشن
نہ سرمہ مسي نہ پان سا تن اري ديواني خدا خدا کر
بہار گلشن عياں ہے اس ميں ادائے بلبل نہاں ہے اس ميں
وہ عنقا بيگم زباں ہے اس ميں کہ مار ڈالا لبھا لبھا کر
|