اپنے
رہنے کا جو ملا ہے مکاں
ہے بعينہ وہ صورت زنداں
اس
ميں مطلق نہيں ہوا کا گزر
سر يلد کي وہاں کرے ہے نظر
نہ
تو وزن نہ اس ميں جالي ہے
دن سيہ جيسے رات کالي ہے
جائےبول اس کے در آگے ہے
جو ہر مغز کو جلائے ہے
خاکبازي ہے اس کي چھت کا کام
خاک اس سے چھڑا کرے ہے مدام
گر
نظر جائے جانب ديوار
نظر آتي ہے چينٹنوں کي قطار
رات
دن جي صفا کو ترسے ہے
اپني قسمت کي خاک برسے ہے
گھر
ميں ميرے جو کوئي آتا ہے
اپني صورت کو بھول جاتا ہے
مصحفي جائے سينہ چاکي ہے
گھر نہيں يہ تو برج خاکي ہے
|