جن
انشاء کي منہ زورياں زور ستم ظرفياں حد سے بڑھ گئيں
تو مصفي نے يہ رجز کہہ کر انشاء
کو چڑايا؛
دانش
پہ گھمنڈ اپني جو کرتا ہے بہ شدت
وہ شخص ہے وللہ کہ مجنوں مرے آگے
ميں
گوز سمجھتا ہوں سدا اس کي صدا کو
گر بول اٹھے اوہي کي چوں چوں مرے آگے
قدرت
ہے خدا کي کہ ہوئے آج وہ شاعر
طفلي ميں جو کل کرتے تھے غاں غوں مرے آگے
موسي
کا عصا مصحفي ہے خامہ مرا بھي
گو خصم بنے اسود افيوں مرے آگے |