|
دنيا
ميں بادشاہ سو ہے وہ بھي آدمي
اور مفلس و گدا سو ہے وہ بھي آدمي
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھي آدمي
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھي آدمي
ٹکڑے
چبارہا ہے سو ہے وہ بھي آدمي
ابدال غوث قطب ولي آدمي ہوئے
منکر بھي آدمي ہي ہے اور کفر کے بھرے
کيا کيا کرشمے کشف و کرامات کے کئے
حتي کہ اپنے زور و رياضت کے زور سے
خالق
سے جا ملاہے سو ہے وہ بھي آدمي
فرعون نے کيا تھا جو دعوي خدائي کا
شداد بھي بہشت بنا ہوا خدا
نمرود بھي خدا ہي کہلاتا تھا بر ملا
يہ بات ہے سمجھنے کي آگے کہوں ميں کيا
ياں
تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھي آدمي
مسجد
بھي آدمي نے بنائي ہے ياں مياں
بنتے ہيں آدمي ہي امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہيں آدمي ہي قرآں اور نمازياں
اور آدمي ہي ان کي چراتے ہيں جوتياں
جو
ان کو تاڑتاہے سو ہے وہ بھي آدمي
|