|
اگر چہ کھا کے رشوت بڑھ گئي ہے اس کي موٹائي
مگر چہرے پہ اب باقي نہيں پہلے سي رعنائي
غلط سمجھے ہو ليڈر قوم کے ہمدرد ہيں
کوئي دولت کا رسيا ہے کوئي کرسي کا شيدائي
ہمارے عہد ميں توقير کا معيار دولت ہے
شرافت کام آتي ہے ، نہ کام آتي ہے وانائي
کوئي ہم کو دلا دے کاش ايسي نوکري
برائے نام ہو تنخواہ پر انکم ہو بالائي
نہيں آتا ہے ان کو تيرنا چھوٹي سي ريا میں
سمندر کي مگر وہ ناپنے نکلے ہے گہرائي
گذشتہ روز ارجنٹ کال بک کروائي تھي ہم نے
برائے گفتگو نوبت مگر اب تک نہيں آئي
بہت مہنگا پڑا ہم کو نياز آنکھوں کا اپريشن
اسے بھي ہم گنوا بيٹھے جو تھي تھوڑي سي بينائي
|