|
کھٹملوں کا نام مچھر کا نشاں کوئي نہ ہو
معرکے رشوت کے ہم ہر روز سر کرتے رہے
خدمت علم و ہنر ہم عمر بھر کرتے رہے
اور سب اعزاز حاصل بے ہنر کرتے رہے
دوپہر تک وہ ادھر آرام سے سوتا رہا
انتظار يار شب بھر ہم ادھر کرتے رہے
درد تو محسوس کرتا تھا ميں اپنے پائوں ميں
ڈاکٹر ليکن علاج درد سر کرتے رہے
ہم نے سوچا تھا بنيں گے پائلٹ ہم کبھي مگر
زندگي بھر بيل گاڑي ميں سفر کرتے رہے
|