|
ميرے
دولہا نے جب مجھ کو روتے ہوئے
پالکي سے اتارا تو ميں ہنس پڑي
اور اترتے اترتے ھوا ميں مرا
اڑ گيا جب غرارا تو ميں ہنس پڑي
ساس نے جب کہا ديکھ رنڈي سنبھل
گر گئي اس کے قدموں پہ گھٹنوں کے بل
جب يہ نندوں نے تالي بجا کر کہا
اٹھ کے گر جادوبارہ تو ميں ہنس پڑي
جب ميں آگے بڑھي، تين سوتيں مليں
آکے ميرے گلے، تين موتيں مليں
تھام کر ہاتھ ان غنڈيوں نے مجھے
ايک گھونساجو مارا توميں ہنس پڑي
کالے کالے مجھے آٹھ بچے ملے
مسز الو کو، الو کے پٹھے ملے
جب ان کي آٹھوں نے دامن مرا تھام کر
مجھ کو اماں پکارا تو ميں ھنس پڑي
مجھ کو آتے ہي لوہے کے زيور ملے
لاٹھياں لے کے ہاتھوں ميں ديور ملے
جب انہوں نے کہا پياري بھابھي يہاں
ناچ کب ہے تمہارا؟ تو ميں ہنس پڑي
کيا کہوں اب اس کمرے ميں کيا گل کھلے
ميري چٹيا نچي، مجھ کو کودھکے ملے
گنج سر پر سے جب ہنس کے کم بخت نے
اپنا پگڑ اتار تو ميں رو پڑي |