دور جديد کے جن شعرا نے زندگي اور سماج کے چھپے ہوئے ناسوروں پر تيز نشتر
چلانے کا آغاز کيا، ان ميں راجہ مہندي کا نام بھي ليا جاتا ہے۔وہ مولانا
ظفر علي خان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور پيدائشي شاعر تھے۔
راجہ صاحب کي بہترين نظم ايک چہلم پر ہے جس ميں انتہائي خوبي اور جرات سے
سماج کي بعض دلچسپ رسوم کے مضحک پہلوئوں کو بے نقاب کيا ہے، راجھ مہندي علي
خان نے کسي قسم کي نکتہ چيني کئے بغير رومان اور حقيقت کے تصادم کو محض
تصويروں کي صورت ميں پيش کرکے کامياب طنز کے نمونے پيش کئے ہيں۔ |