|
خدا کے واسطے کھولو بھي آکے دروازہ
ميں کتني دير سے باہر کھڑا ہو چيخ رہا
اگر عليل نہ ہو آپ کا مزاج شيرف
تو پنکھا جھلئے ذرا اٹھ کے کيجئيے تکليف
يہ چارپائي مري ٹيڑھي کيوں بچھائي ہے
بھلا اکني يہ کيوں فرش پر گرائي ہے
الہي کون يہ پاني کا دے گا اتنا بل
خدا کے واسطے کرنل کو بند اے کاہل
چپاتياں مرے اللہ سب کي سب کچي
تمام عمر ہي شايد رہو گي تم بچي
بس اٹھ اب کوئي ايسا برا تو حال نہيں
يہ مجھ غريب کا گھر ہے يہ ہسپتال نہيں
دبا پير مرے اٹھ کے اٹھ بھي اٹھ ست |