|
دو بھائي:
ميں ماروں گا منع کر اس کو بے بے
جمالا مجھ پہ تھوکيں سونٹتا ہے
غمزدہ حسينہ:
کيوں بجھاتے ہوديا الفت کا پھوکاں مارکے
چاہتا ہے دل مرا روواں ميں کوکاں مارکے
مہمان نوازي:
بہت سے روغني ہيں نان اور شورا ہے ککڑ کا
ارے الو دے پٹھے ماحضر آکر تناول کر
چچي اور بھتيجي:
لگا ہے ميز تے کھانا تکلف کر نہ آجاچي
مرا کہنا نہيں مندي تے جاکھسماں نوں کھاچاچي
ڈنگوري اور بے بے:
ڈنگوري لے کے پے جا اس کو ابا
مري بے بے نے چوچا مار سٹيا
اللہ رکھا اور چارياں:
منجي داپاوا اماں ميتھوں نہيں ہے ٹيٹا
کل اس پہ اللہ رکھا تشريف رکھ گيا تھا
گالي:
کتے دا پتر کہا کرتے ہو، کيوں ابا مجھے
ماں تے کتي تھي، نہيں کتے داپتر توں نہيں
جنون اور عشق:
جنون اور عشق ميں اپنا گريباں پھاڑ ديتا ہوں
وہ ظالم مسکرا کر دو تروپے مار جاتي ہے
دعوت نامہ:
اکيلي گر نہيں آتي مرے بلانے پر
کھسم کے ساتھ چلي آ غريب خانےپر
پردہ:
جب کسي نے مسکرا کر مجھ پر اک سٹيا سلام
ذرا پھٹے منہ، کہہ کہ منہ ميں پردے دے پچھے چھپ گئي
عذر گناہ بد تراز گناہ:
سوں رب دي مام دن ميں کل رات تيرے کو
ملتي ضرور پر مجھے چيتا نہيں رہا
ڈاکو دلدار:
اللہ ميں قربان جائوں، اپنے ڈاکو يارکے
جس نے ڈولي وچ بٹھايا مينوں ٹھڈے مار کے
|