|
بو چاول نہ اس کمرے ميں تولو
نہ چابي کے ليے تکيہ ٹٹولو
بڑي سردي ہے دروازہ نہ کھول
سرہانے مير کے آہستہ بولو
ابھي ٹک روتے روتے سوگيا ہے
يہ تڑپے دن ميں اور راتوں کو جاگے
ابھي سے لڑکيوں کے پيچھے بھاگے
بٹے راتوں کو يہ زلفوں کے دھاگے
ہے مجنوں طفل مکتب اس کے آگے
نجانے کس پہ عاشق ہوگيا ہے
ابھي ٹک روتے روتے سوگيا ہے
موئے عطار کے لڑکے سے ياري
ہوئي جب اس کي اس نہ آنکھ ماري
نہ اس ظالم نے کي کچھ پردہ داري
اٹھا کر منہ پہ دے مار پٹاري
خيالوں ميں اسي کے کھوگيا ہے
ابھي ٹک روتے روتے سوگيا ہے |