مے
چھين کر کسي سے جو پيتے تو تھي خطاُ
جب دام دے کر پي تو گنہ کيا کيسي کا تھا
آئے
ميخانے ميں جب مسجد جامع سے رياض
ساتھ ہي آپ کے قبلہ سے گھٹا بھي آئي
بن
کے مہماں اک رند روزہ دار آنے کو ہے
شام ہونے کوہے ميرے گھر ادہار آنے کو ہے
اچھوتے جام ہيں منت کے کچھ الگ رکھے
کسے پلائيں کوئي پارسا نہيں ملتا
جلوہ
ساقي ومے جان لئے ليتے ہيں
شيخ جي ضبط کريں ہم تو پنےليتے ہيں
کعبہ
ميں نظر آئے جو صبح اذاں ديتے
ميخانہ ميں راتوں کو ان کا بھي گزر ديکھا
ميخانہ کيوں ياد خدا ہوتي ہے اکثر
مسجد ميں تو ذکر مے و مينا نہيں ہوتا
جام
چھلکانے لگے بھر کر مے کوثر سے آپ
حضرت واعظ بہت اونچے گئے منبر سے آپ
|