|
شب غم کے اندھيروں مميں کمي ہونے نہيں ديتے
يہ کيسے بلب ہيں جو روشني ہونے نہيں ديتے
مسلمانوں کي خواہش ہے کہ وہ سب ايک ہو جائيں
مگر ان کو اکھٹا مولوي ہونے نہيں ديتے
ہے نيچے کھردري پتلون اوپر شرٹ مردانہ
مگر ايسا جہاں کے چودہري ہونے نہيں ديتے
مشينوں سے بنا ليتے ہيں ہم کيا کيا سپر انساں
مگر ہم آدمي کو آدمي ہونے نہيں ديتے
بنا رکھا ہے بچے کي ولادت مسئلہ ہم نے
کبھي ہونے پر خوش ہيں اور کبھي ہونے نہيں ديتے
جہاد خانگي ميں کامراں ہوتے ہيں وہ شوہر
جو خود ديو بيوي کو پري ہونے نہيں ديتے
غزل ميں آج بھي شاہد ظرافت ہم سے قائم ہے
ہم اس صنف سخن پھسپھسي ہونے نہيں ديتے
|