|
سوٹ کو ماضي کا اک افسانہ کہہ
مجھ سے مسٹر کو بھي اب مولانہ کھ
دوستي باہر حسينائوں سے رکھ
گھر ميں بيوي کو چراغ خانہ کہہ
دست پنجہ لے جو مطلب کے لئے
ايسے دست يار کو دستانہ کہہ
جو بيوٹي پارلر ميں خرچ ہو
اس کو اپنے حسن کا فطرانہ کہہ
فيس بابو کو اگر ديني پڑے
اس کو رشوت مت سمجھ نذرانہ کہہ
حسن کي گر ديکھني ہو برہمي
ايک دن نسرين کو رخسانہ کہہ
ہر جواں عورت کو اپني باجي مت بنا
جو معمر ہے انہيں آپا نہ کہہ
صرف اتنا کر کہ مجھ کو مت سنا
بيس غزليں شوق روزانہ کہہ
قول مرداں جان داروں سرفراز
بات سچي ہو تو بے باکانہ کہہ
|