رکھے اس لالچي لڑکے کو کوئي کب تلک بہلا
چلي جاتي ہے فرمائش کبھي وہ لا کبھي يہ لاہميں تو بوسہ نہ
دينے کہا نہ کہہ کے ديا
جنہوں سے وعدہ کيا ہے انہيں چماتے ہيںان بتوں کو ہم نے فقيروں
سے کہو کيا کام ہے
يہ تو طالب زر کے ہيں اور ياں خدا کا نام ہےلنے کو نوخطاں کے
واعظ برا کہنے ہے
مجہول ہيں يہ باتيں ہم خوب جانتے ہيںتري نگاہ کي کثرت سے اسے
کماں ابرو
ہمارے سينے ميں تو دا ہوا ہے تيروں کاانگوٹھي لعل کي کرتي
قيامت آج اگر ہوتي
جنہوں کي آن پہنچي لڑ مرے وہ ايک چھلے پرزلف کيوں کھولتے ہيں
دن صنم
مکھ دکھايا ہے تو نہ رات کرواس کے رخسار ديکھ ليتا ھوں
عارضي ميري زندگاني ہےنہ پوچھو خود بخود ہے عارض خوريشد کي
خوبي
ليا ہے ذرہ ذرہ حسن و مہر وياں سے کر چندہآج تو ناجي سجن سے
کر تو اپنا عرض حال
مرنے جينے کا نہ کرو سو اس ہوني ہو سو ہو |