|
مولانا شبلي مئي ١٨٥٧
ميں ضلع اعظم گڑھ کے ايک گاؤں بندوں ميں پيدا ہوئے چونکہ حنفي عقيدہ کے
پابند تھے۔اسي مناسبت سے ان کے استاد مولانا فاروقي چريا کوٹي نے ان کا نام
نعماني رکھ ديا۔کافي عرصہ سر سيد احمد خاں کي صحبت ميں رہے۔علم و ادب کا
شوق انہيں ہندوستان سے باہر بھي لے گيا۔ چناچہ الفاروق کي تصنيف کے سلسلے
ميں انہوں نے مصر، شام اور ٹرکي کے کتب خانوں سے استفادہ کيا۔بڑي معرکتہ
الارا کتابيں لکھيں جن ميں شعر العجم، الماموب، الغفرالي، موازنہ انيس و
ديبر، علم اکلام اور سيرت النبي بڑي اہميت کي مالک ہيں۔جنوري ١٨٩٢ ميں
ہندوستان کي برطونوي حکومت نے انہيں شمس العلما کا خطاب عطا ديا۔١٩١٤ ميں
ان کا انتقال ہوا۔ |