لاري ميں مسافر تھے پريشاں و زبوں حال
لے آئي تھي لاري ميں انہيں شامت اعمالکھڑکي پہ يہ لکھا تھا کہ اک تيرا سہارا
اک ديو قمي حبث بھي موجود تھے ہم ميں
قاروں کا خزانہ لئيے بيٹھے تھے شکم ميں
وہ خود کو ہماري ہي طرف پيل رہے تھے
ہم جرم شرافت کي سزا جھيل رہے تھے
يہ کہتے تھے دبتے تھے جب ہم اور زيادہ
اللہ کرے زور شکم اور زيادہ
آگے جو بڑھے ہم تو ملي راہ سفر بند
لاري تھي حوالات مسافر تھے نظر بند
اتني ہي خبر آئي برا وقت پڑا ہے
پيدل ہي چلے جائو دھرا ٹوٹ گيا ہے
لاري نے کسي طرح قدم ہي نہ بڑھائے
ہم خود ہي بدايوں تک اسے کھينچ کے لائے
رستے مں کچھ اس زور کے جھٹکے لگے دو تين
کچھ لوگ جو کمزور تھے پڑھنے لگے يسين
گھر پہنچے تو اس شان سے ہم دھول ميں اٹ کر
جيسے ابھي آئے ہيں صحرا سے پلٹ کر
|