گھر آنے کو جب نہ مل سکي کوئي سواري
سوچا کہ چلو چل کے پکڑليں کوئي لاريجس بس ميں سفر ہونے کو مجبور ہوئے ہم
اس بس کا خداوند تھا اک بٹلر اعظم
اس سوچ ميں تھا بس کو چلائے نہ چلائے
ڈرتا تھا کہ رستے ميں دھرا ٹوٹ نہ جائے
جب چڑھ گئي ہر ايک سواري پہ سواري
اس وقت بريلي روانہ ہوئي لاري
اللہ رے لاري کي وہ اٹھلاتي ہوئي چال
ميکے سے دلہن چلنے لگي جانب سسرال
لاري کو گوارا ہي نہ تھا منت مہميز
آزاد طبعيت تھي کبھي سست کبھي تيز
رستے ميں ہر افتاد و مصيبت کا تھا امکاں
لاري ہي پہ لکھا تھا اللہ نگہباں
|