مولانا ظفر علي
خاں1870 ميں سيالکوٹ کے ايک گاؤں کوٹ مہرتھ ميں پيدا ہوئے۔ ان کے والد مولوي سراج
الدين احمد ڈاک وتار کے افسر تھے، يہ بھي ١٨٩٢ ميں علي گڑھ سے ايف اے کرنے کے بعد
کچھ عرصہ اس محکمہ ميں ملازم رہے۔ پھر ١٨٩٨ميں علي گڑھ جا کر بي اے کي سند لي اور
وہيں نواب محسن المک کے پرائيوٹ سيکڑري بن گئے۔
پاک ہندکي وسيع سر زمين ميں ان کاطوطي بولتا تھا، ايک زندگي ميں کئي زندگياں جمع
تھيں۔ وہ بلند پايہ اديب۔آتش بياں خطيب، بے باک صحافي، قادر الکلام شاعل، زبردست
سياسدان اور پنجاب کے سب سے بڑے نڈر رہنما تھے۔ ان کے دل ميں قوم کا سچا پيار تھا۔
وہ مسلمانوں کا دکھ درد محسوس کرتے۔
ہر مصيبت ميں کام آتے، ہر آگ ميں کود پڑتے اور اپني حريت فکر اور آزادي رائے سے بے
شمار ساکن فضاؤں ميں طلاطم برپا کرديتے تھے، سرتاپا حرکت و حرارت تھے، ان کا ايک
ايک لمحہ ہنگامہ خيزيوں ميں گزرتا تھا، صحافت، سياست، تقرير، تحرير، ادب، شاعري اور
تاليف و ترجمعہ کے معرکوں ميں وہ پيش پيش رہتے تھے اور يہي روشني طبع ان کيلئے بلا
ہو جاتي تھي۔
پہلي جنگ عظيم کے شروع ہوتے ہي زميندار کا گلا گھونٹ ديا گيا اور مولانا ظفر خاں
کرم آباد ميں نظر بند ہوگئے۔مولان کي مجموعي قيد کوئي بارہ سال کے قريب ہوگي، آخري
عمر ميں مرکزي اسمبلي کے رکن بھي منتخب ہوگئے،آخر طويل علالت کے بعد ٢٧نومبر ١٩٥٦
کو يہ ساز ھميشہ کيلئے خاموش ہو گيا۔
مولانا کي سب سے زيادہ بڑي خوبي يہ تھي کہ کہ جذبہ تو حيد سے سر شار تھے۔ اسلام کي
خاطر بڑي سے بڑي قرباني کر گزرتے تھے۔ مسلمانوں کو ہر جگہ سر بلند ديکھنا چاہتے
تھے۔ انگريز کو بدترين دشمن سمجھتے تھے۔اس سے ہر ميدان ميں ٹکر لي ہر معرکہ ميں اس
سے دسعت و گريباں ہوئے۔
مولانا ظفر علي خاں نظم و نثر ميں ايک بديع اور خاص طرز کے موجد تھے۔ انداز بہت
شگفتہ، شوخ پر سطوت اور حاکمانہ تھا۔نظموں کے متعد مجموعے، نگارستان، بہارستان،
چمستان وغيرہ کے نام سے چھپ چکے ہيں۔ |