|
ضرب جب دے ديا لمبائي ميں چوڑائي کا
خود نکل آتا ہے رقبہ شب تنہائي کا
پھر بہار آگئي پھر عشق کي اسپيڈ بڑھي
پھر کھجانے لگا تلو ترے سودائي کا
صاف عارض يہ ترے ميرے نظر تک پھسلي
آج ميں ہو گيا قائل تري چکنائي کا
بے لڑے جان دئيے جاتے ہيں اب تو ہم لوگ
ہائے کيا تاک کے بم پھينکا ہے مہنگائي کا
تيل مٹي کا سرشام ہي جب ختم ہوا
اور منہ ہوگيا کالا شب تنہائي کا |