مال ہے ناياب پر گاہک ہيں اکثر
بے خبر شہر ميں کھولي ہے حالي نے دکاں سب سے الگ، اگر چہ ہم حالي
کو جديد اردو شاعري کا باني مباني قرار نہيں دے سکتے کہ يہ سہرا
آزاد کے سر بندھتا ہے، تاہم اردو شاعري کو رسوميات کي تنگ ندي سے
نکال کر عالمگير ادب کے کھلے پانيوں سے روشناس کرانے ميں جورول
حالي نے ادا کيا، اس کي اہميت سے انکار ممکن نہيں، اگر چہ حالي کے
آخر دور کي شاعري سرسيد کے زير اصلاح معاشرہ کے عزم کے گورکھ دھندے
تلب دب جاتي ہے، اس کے باوجود انہوں نے تغزل اور اپني مخصوص سلاست
و چاشني کو ہاتھ سے جانے نہيں ديا۔
حالي وہ پہلے شاعر ہيں جنہوں نے شاعري کو داخلي کيفيات کے بيان کے
بجائے ايک پبلک فورم کي حيشيت ديدي، اور اسے عوامي اصلاح کيلئے
استعمال کيا۔ |