|
دل کو کس طرح سمجھئے کہ وہي ہے يہ دل
وہ اميديں ہيں نہ ارماں وہ امنگيں نہ چائو
يار کو يار سمجھتا ہے نہ تو غير کو غير
تو تو اچھا ہے مگر تيرے برے ہيں برتائو
دوست ہوں جس کے ہزاروں وہ کسي کا نہیں دوست
سچ بتا تجھ کو کسي سے بھي ہے دنيا ميں لگائو
تو وہي برق جہاں سوز ہے بن خواہ نہ بن
ہے برابر ترا بے ساختہ پن اور بنائو
ہو گيا ذکر قيامت تو اجيرن واعظ
باتيں کچھ اور کرو قصہ کوئي اور سناؤ
تجھ کو اے ابر بلا ديکھ کے جي جھوٹ گيا
ايک ہي بار تم اے بادلو اس طرح نہ چھاؤ
پہنچ اے خضر کہ ہے وقت مددگاري کا
ڈگمگاتي ہے بہت دير سے مجندھار ميں ناؤ
|