|
جب سے سني ہے تيري حقيقت چين نہيں اک آن ہميں
اب نہ سنيں گے ذکر کسي کا آگے کو ہوئے کان ہميں
صحرا ميں کچھ بکريوں کو قصاب چراتا پھرتا تھا
ديکھ کے اس کو سارے تمہارے آگئے ياد احسان ہميں
ياں تو بدولت زہد و ورع کے نبھ گئي خاصي عزت سے
بن نہ پڑا پر کل کے لئے جو کرنا تھا سمان ہميں
سر تھے وہي اور تال وہي پر راگني کچھ بے وقت سي
تھي
غل تو بہت ياروں نے مچيا، پر گئے اکثر مان ہميں
غير سے اب وہ بير نہيں اور يار سے اب وہ پيار
نہيں
بس کوئي دن کا اب حالي ياں سمجھو تم مہمان ہميں
|