|
نفس دعوي بے گناہي کا سدا کرتا رہا
گرچہ اترے جي سے دل اکثر ابا کرتا رہ
حق نے احسان نہ کي اور ميں نے کفراں ميں کمي
وہ عطا کرتا رہا اور ميں خطا کرتا رہ
چوريوں سے ديدہ دل کي نہ شرمايا کبھي
چپکے چپکے نفس خائم کا کہا کرتا رہ
طعنوں کي زد سے بچ بچ کر چلا راہ خطا
وار ان کا اس لئے اکثر خطا کرتا رہ
نفس ميں جو ناروں خواہش ہوئي پيدا کبھي
اس کو حيلے دل سے گھڑ گھڑ کر روا کرتا رہ
منہ نہ ديکھيں دوست پھر ميرا اگر جانيں کہ میں
ان سے کيا کہتا رہا اور آپ کا کيا کرتا رہ
تھا نہ استحقاق تحسين پر سني تحسيں سدا
حق ہے جو دوں ہمتي کا وہ ادا کرتا رہ
شہرت اپني جس قدر بڑھتي گئ آفاق ميں
کبر نفس اتنا ہي ياں نشوونما کرتا رہ
ايک عالم سے وفا کي تو نے اے حالي مگر
نفس پر اپنے سدا ظالم جفا کرتا رہ
|