رکھو نہ مجھ سے تمنائے ناز برداري
غريب شہر ہوں ليکن نياز مند نہيںيار سب دھوپ کے شاکي ٹھرے
ہم نے سائے ميں تمازت پائي
خطيب شہر کو حسن بياں پر ناز ہے ليکن
زباں سے چھپ نہيں کبھي دل کي رياکاري
ضرب پہيم سے بدل جاتا ہے جيسے آہن
يونہي انسان کو صدمات بدل ديتے ہيں
اب وہ کردار کس جگہ ڈھونڈيں
آج سنتے ہيں جن کے افسانے
غم دوراں کي تلخي اس قدر محسوس کيوں ہوتي ہے
غم جاناؤ کو دل ميں گر سموليتے تو اچھا تھا |