|
ہلاديں دل نہ کيونکر شعرا آتش
صفا بندش ہے، معني خوبصورت خواجہ حيدر علي آتش مصحفي کے شاگرد تھے،
زندگي کا بيشتر حصہ لکھنو ميں گزارنے کے باوجود آتش نے وہاں کي
مروجہ معاملہ بندي اور سستي جذباتيت سے مرعوب ہونے کے بجائے اپني
راہ سب سے الگ نکالي، آتش نہ تو جرات وغيرہ کي طرح جسم کي دلدل ميں
دھنسے اور نہ ہي مير کي طرز پر افسردگي کو اپنے اور حاوي ہونے ديا،
وہ اردو کے پہلے شاعر ہيں، جن کے کلام ميں حزنيہ لے کے بجائے
نشاطيہ لے پائي جاتي ہے، حتي کہ ان کي بظاہر الميہ اشعار کي تہہ
ميں بھي زندگي سے لطف اندوز ہونے کي خواہش کروٹيں ليتي محسوس ہوتي
ہے، ان کي زندگي حرکت و قوت اور خود اعتمادي سے عبارت تھي، جس کا
اندازہ اس بات سے لگايا جاسکتا ہے کہ مشاعروں ميں بھي تلوار سے ليس
ہو کر جاتے تھے۔ |