|
بيمار عشق و رنج و محن سے نکل گيا
بيچارھ منہ چہپا کے کفن سے نکل گي
ديکہا جو مجہ غريب کو بولے عدم کے لوگ
مدت سے تہا يہ اپنے وطن سے نکل گي
عالم جو تہا مطيع ھمارے کلام کا
کيا اسم اعظم اپنے دھن سے نکل گيا؟
زنجير کا وھ غل نہيں زنداں ميں اے جنوں
ديوانہ قيد خانہ تن سے نکل گي
رتبے کو ترے سن کر سبک ھو کے ھر غزال
ديونہ ھو کے دشت ختن سے نکل گي
پھر طفل حيلہ کو کا بہانہ نہ مانيو
آتش وھ اب کي بار تو فن سے نکل گي
|